Monday, 26 October 2015

▪فرقۂ ناجیہ اہل سنت والجماعت کاپس منظراورتعارف▪


▪فرقۂ ناجیہ اہل سنت والجماعت کاپس منظراورتعارف▪

نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’تفترق امتی علی ثلث و سبعین فرقۃ ۔ میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی‘‘۔

ترمذی:
۲/۹۲)

ایک دوسری جگہ روایت میں آتا ہے: ’’کلھم فی النار الا ملۃ واحدۃ۔ وہ تمام فرقے جہنم میں جائیں گے ایک فرقہ کے سواء‘‘۔

(ترمذی:
۲/۹۲۔ و کذا فی المستدرک)

ایک اور روایت میں اس فرقہ ناجی کے متعلق آپ ﷺنے یہ بیان فرمایا: ’’ما انا علیہ و اصحابی...۔ کہ جس پر میں اور میرے صحابہؓ ہیں‘‘۔

(ترمذی)

اس فرقہ ناجی کو اہل سنت و الجماعت کہا جاتا ہے۔

اھل:  یہاں پر اہل سے مراد اتباع، مقلدین اشخاص ہیں۔

سنت:  اس کا معنیٰ تو راستہ کے آتے ہیں اور سنت طرزِ عمل کو بھی کہتے ہیں جیسے کہ قرآن مجید میں آتا ہے: ’’.... وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللہ تَحْوِيلًا .... اور اللہ کی سنت میں تم تبدیلی نہیں پاؤگے‘‘۔

اور دینی اصطلاح میں لفظِ سنت رسول اللہ ﷺ کی طرزِ زندگی اور طریقِ عمل کو کہتے ہیں،

جماعت:        اس کے معنیٰ گروہ کے ہیں، یہاں پر جماعت سے مراد صحابہؓ ہیں۔

اہل سنت و الجماعت کا مطلب اور مفہوم کے بارے میں علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اس فرقہ کا اطلاق ان اشخاص پر ہوتا ہے جن کے اعتقادات، اعمال اور مسائل کا محور نبی کریم ﷺ کی سنتِ صحیحہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اثر مبارک ہے، یا یوں کہئے کہ جنہوں نے اپنے عقائد اور اصولِ حیات اور عبادات و اخلاق میں اس راہ کو پسند کیا جس پر آپﷺعمر بھر چلتے رہے اور آپﷺ کے بعد آپ کے صحابہؓ اس پر چل کر منزلِ مقصود کو پہنچے‘‘۔

(اہل سنت و الجماعت:
۱۰)

’’یوم تبیضُّ وجوہٌ ۔ قیامت کے دن بعض چہرے خوبصورت ہوں گے‘‘، اس کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت ابوسعید خدریؓ جیسے صحابہ فرماتے ہیں اس سے مراد اہل سنت و الجماعت ہیں۔

(در المنثور:
۲/۶۳)

اور پھر اہل سنت و الجماعت اولاً نبی کریم ﷺ کو اپنا مقتدیٰ مانتے ہیں اور اس کے بعد آپﷺ نے خود ارشاد فرمایا تھا کہ ’’ما انا علیہ و اصحابی‘‘ تو صحابہؓ کو بھی معیارِ حق مانتے ہیں، خاص کر کے خلفاء راشدین جن کے بارے میں خود آپﷺ کا ارشاد گرامی موجود ہے۔

’’علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین تمسکوا بھا و عضوا علیھا بالنواجذ ‘‘۔

(ابوادؤد:
۲/۲۷۹، ترمذی:۳۸۳، ابن ماجہ:۵، دارمی:۶/۲، مسند احمد:۴/۲۷)

ترجمہ: ’’میری سنت کو لازم پکڑو اور خلفاء راشدین کی سنت کو جو ہدایت یافتہ ہیں ان کو دانتوں سے مضبوطی سے پکڑ کر رکھو‘‘۔

اور پھر اس کے بعد اہل سنت و الجماعت ائمہ اربعہ یعنی امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ علیہم کو حق تسلیم کرتے ہوئے کسی ایک کی مسائل میں اتباع کو ضروری قرار دیتے ہیں، نیز اہل سنت و الجماعت کے نزدیک ادلہ شرعیہ چار ہیں، ان چاروں کو ہی ماننا ہے: (
۱)قرآن۔ (۲)حدیث۔ (۳)اجماعِ امت(جس پر اتفاق ہوچکا ہو)۔ (۴)قیاس(کہ بعض فقہی مسائل کے حل موجود نہیں ہیں تو جن کا حل موجود ہے اس کی علت دیکھ کر اس پر بھی وہی حکم لگادیتے ہیں)۔

علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

’’فان اھل السنۃ تتضمن النص و الجماعۃ تتضمن الاجماع فاھل السنۃ والجماعۃ ھم المتبعون للنص و الاجماع‘‘۔

(منہاج السنۃ:
۳/۲۸۲)

ترجمہ:   یعنی اہل سنت میں سنت سے مراد نص ہے، یعنی کتاب و سنت ہے اور جماعت سے مراد اجماع ہے، پس اہل سنت و الجماعت نص اور اجماع کی اتباع کرتے ہیں۔

ائمہ اربعہ کا اتفاق صحابہؓ کے اتفاق پر مبنی ہے اور ائمہ اربعہ کا اختلاف صحابہؓ کے اختلاف پر مبنی ہے، اور جن مسائل میں صحابہ اور ائمہ اربعہ کا اجماع ہے ان سے اختلاف کرنا بھی اجماع سے نکلنا ہے اور جن مسائل میں ائمہ اربعہ میں اختلاف ہے ان میں کوئی نیا اختلاف پیدا کرنا بھی اجماع کے خلاف ہے اور جو ان سے خارج ہیں وہ اہل سنت و الجماعت میں سے نہیں ہیں۔

(عقد الجید)

اسی کو بعض روایات میں سوادِ اعظم کہا گیا ہے اور اسی سوادِ اعظم کی ہی اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی روایت ہے معلوم ہوتا ہے:

۱۔  عن ابن عمرؓ قال قال النبی ﷺ لا یجمع ھذہ الامۃ علی الضلالۃ ابداً و یدُ اللہ علی الجماعۃ فاتبعوا السواد الاعظم فانہ من شذ شذ فی النار۔

(الحاکم فی المستدرک:
۱/۲۰۰)

ترجمہ:   حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس امت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور فرمایا اللہ کی مدد جماعت پر ہوتی ہے، لہٰذا تم امت کے سواد اعظم کا (یعنی بڑی جماعت کا) اتباع کرو اور جو اس سے الگ رہے گا الگ کرکے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

۲۔      حدثنا معتمر بن سلیمان قال قال ابوسفیان سلیمان بن سفیان المدنی عنر عمرو بن دینار عن ابن عمرؓ ان النبی ﷺ قال : لا یجمع اللہ امتی علی ضلالۃ ابدا و ید اللہ علی الجماعۃ ھکذا فاتبعوا السواد الاعظم فانہ من شذ شذ فی النار ۔

(الحاکم فی المستدرک:
۱/۲۰۱)

ترجمہ:   حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعایٰ میری امت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور اللہ کی مدد اسی جماعت پر آتی ہے، لہٰذا تم امت کے سواد اعظم (بڑی جماعت) کا اتباع کرو، جو اس سے الگ ہوگا اسے الگ کرکے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

۳۔   عن ابن عمرؓ قال قال رسول اللہ ﷺ لا یجمع ھذہ الامۃ او قال امتی علی الضلالۃ ابداً اتبعوا السواد الاعظم فانہ من شذ شذ فی النار۔

(المستدرک للحاکم:
۱/۲۰۱)

ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس امت کو یا یہ فرمایا کہ میری امت کو گمراہی پر کبھی جمع نہیں کریں گے اور تم سب سے بڑی جماعت (سواد اعظم) کی اتباع کرو، جو اس سے الگ ہوگا اسے الگ کرکے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

۴۔      عن انس بن مالکؓ یقول سمعت رسول اللہ ﷺ یقول ان امتی لا تجتمع علی الضلالۃ فاذا رأیتم اختلافاً فعلیکم بالسواد الاعظم۔

(ابن ماجہ:
۲۸۲)

ترجمہ:   حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی، جب تم اختلاف دیکھو تو اپنے آپ کو سواد اعظم کے ساتھ لازم کرلو۔

فرقہ ناجیہ کے بارے میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان

اقول: الفرقۃ الناجیۃ ھم الاٰخذون فی العقیدۃ و العمل بما ظھر من الکتاب والسنۃ و جریٰ علیہ جمھور الصحابۃ و التابعین ..... الخ۔

(حجۃ اللہ البالغہ:
۱/۱۷۰)

ترجمہ:   میں کہتا ہوں کہ نجات حاصل کرنے والا فرقہ وہی ہے جو عقیدہ اور عمل دونوں میں اس چیز کو لیتا ہے جو کتاب اور سنت سے ظاہر ہو اور جمہور صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کا اس پر عمل ہو۔

و غیر الناجیۃ کل فرقۃ انحلت عقیدۃ خلاف عقیدۃ السلف او عملا دون اعمالھم ..... الخ۔

(حجۃ اللہ البالغہ:
۱/۱۷۰)

ترجمہ:   اور غیر ناجیہ فرقہ وہ ہے جس نے سلف یعنی صحابہ اور تابعین کے عقیدہ اور ان کے عمل کے خلاف کوئی عقیدہ اور عمل اپنالیا ہو۔

اس طرح شرح العقائد میں لکھا ہے:

قال فی شرح العقائد النسفیۃ فبھت الجبائی و ترک الاشعری مذھبہ فاشتغل ھو و من تبعہ بابطال رأی المعتزلۃ و اثبات ما ورد بہ السنۃ و مضیٰ علیہ الجماعۃ۔

(حاشیۃ الخیالی علی شرح العقائد:
۱۹)

ترجمہ:   شرح عقائد میں کہا ہے کہ جبائی لا جواب: ہوگیا اور اشعری نے ان کا مذہب چھوڑدیا، پھر وہ اور ان کے متبعین، معتزلہ کی رائے کو باطل کرنے میں اور اس عقیدہ کو ثابت کرنے میں مشغول ہوگئے، جس کے ساتھ سنت وارد ہوئی ہے اور جس پر صحابہ کرامؓ چلے۔

خلاصہ یہ ہے کہ فرقہ ناجیہ وہ ہے جو عقائد و احکام میں حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے مسلک پر ہوں اور قرآن کے ساتھ سنتِ نبویہؐ کو بھی صحیح مانتے ہوں اور اس پر عمل کرتے ہوں۔

مولانا مفتی شبیر احمد صاحب شیخ الحدیث جامعہ قاسمیہ، مراد آباد، الہند فرماتے ہیں کہ ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی سواد اعظم جمہور امت کے ساتھ رہے اور یہ بات ائمہ اربعہ کے متبعین میں ہی پائی جاتی ہے کہ ہر دور میں بڑے سے بڑے علماء و مشائخ مقلد ہی تھے اور پھر اس کے بعد غور کیا جائے تو سواد اعظم کا مسلکِ دیوبندی پر اطلاق ہوتا ہے کہ علماء و مشائخ کی بڑی تعداد اس مکتبِ فکر میں ہے، ان سب کو اہل سنت و الجماعت کہا جائے گا۔

(غیر مقلدین کے
۵۶اعتراضات کےجواب:ات:۱/۲۵۳)


 بشکریہ 
بشکریہ :  مولانا عادل سعیدی  مدظلہ  /  مولانا احمد سعید پالنپوری   مدظلہ
مکمل تحریر >>

Monday, 6 July 2015

صلوٰۃ التسبیح کا طریقہ اوراسکی شرعی حیثیت - مولانا خلیل الرحمٰن ندوی

صلوٰۃ التسبیح کا طریقہ اوراسکی شرعی حیثیت
مولانا خلیل الرحمٰن ندوی
مدرس: المعہد الاسلامی السلفی رچھا،بریلی
نماز قرب الٰہی کا سب سے بہترین اور مؤثر ذریعہ ہے، اسی لیے آپ ﷺ فر مایا کر تے تھے :’’قرۃ عینی فی الصلوٰۃ‘‘ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے اور آپ ﷺ فرض نمازوں کے علاوہ نوافل کا بھی اہتمام کر تے تھے، ساتھ ہی ساتھ امت کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔ انہیں نوافل نمازوں میں سے جن کی آپ ﷺ ترغیب دیتے تھے ایک نماز صلوٰۃ التسبیح ہے اور اس نماز کو صلوٰۃ التسبیح کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں کثرت سے تسبیحات پڑھی جاتی ہیں، آپ ﷺ نے اس نماز کی بڑی فضیلت بیان کی ہے اور فرمایا: کہ جو شخص اس نماز کو پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اگلے ،پچھلے، نئے،پرانے گناہوں کو مٹا دے گا خواہ وہ گناہ غلطی سے سرزد ہو تے ہو ں یا جان بوجھ کر، خواہ چھوٹے گناہ ہوں یا بڑے گناہ ہوں ،خواہ اس کا ارتکاب خلوت میں ہوا ہو یا جلوت میں، سب کو اللہ رب العالمین مٹادے گا۔اس لیے میں مناسب سمجھتا ہو ں کہ صلوٰۃ التسبیح کا طریقہ حدیث کی روشنی میں ذکرکر کے اس سلسلہ میں علماء کے اقوال کی وضاحت کر دوں۔
امام ابو داؤدؒ نے سنن ابی داؤد کے اندر حدیث نقل کی ہے :’’حدثنا عبد الرحمٰن بن بشر بن الحکم النیسا بوری اخبرنا موسی بن عبد العزیز اخبر نا الحکم بن أبان عن عکرمۃ عن بن عباس أن رسول اللہ ﷺ قال العباس بن عبد المطلب ’’یا عباس باعماہ الا أعطیک؟ الا امنحک؟ألا أحبوک؟ألا افعل بک عشر خصال؟ اذا انت فعلت ذٰلک غفر اللہ لک ذنبک اولہ و أخرہ قد بمہ و حدیثہ خطأہ و عمدہ صغیرہ و کبیرہ سرہ و علا نیتہ عشرخصال أن تصلی اربع رکعات تقرأ فی کل رکعۃ فاتحۃ الکتاب و سورۃ فاذا فرغت من القرأۃ فی اول رکعۃ و انت قائم قلت سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر خمس عشرۃ مرّۃ ثم ترکع فتقولہا و انت راکع عشرا ثم ترفع رأسک من الرکوع فتقولھا عشرا ثم تھوی ساجد ا فتقولھاو انت ساجد عشراً ثم ترفع رأسک من السجود فتقولھا عشراً ثم تسجد فتقولھا عشرا ثم ترفع رأسک فتقولھا عشرا فذالک خمس و سبعون فی کل رکعۃ تفعل ذالک فی اربع رکعات ان استطعت ان تصلیھا فی کل یوم مرّۃ فا فعل فان لم تفعل ففی کل جمعۃ مرّۃ فان لم تفعل ففی کل شھرمرّۃ فان لم تفعل ففی کل سنۃ مرۃ فان لم تفعل ففی عمرک مرّۃ‘‘۔(بحوالہ عون المعبود،شرح سنن ابی داؤد ج۲جز ۳ ص:۱۲۶ حدیث نمبر ۱۲۹۳)
یعنی آپ ﷺ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ اے چچا عباس رضی اللہ عنہ کیا میں آپ کی بہترین عطیہ اور تحفہ کی طرف رہنمائی نہ کردوں۔ اگر آپ اس کے مطابق عمل کریں گے، تو اللہ رب العالمین آپ کے دس طرح کے گناہوں کو بخش دے گا اور وہ دس طرح کے گناہ درج ذیل ہیں :
آپ کے اگلے اور پچھلے نئے اور پرانے گناہوں کو دھل دے گا، اسی طرح سے آپ سے سھواً یا عمداً کوئی غلطی ہوئی ہے یا کسی صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں یا وہ گناہ خلوت اور جلوت میں ہوئے ہوں سب کو اللہ تعالیٰ بخش دے گا۔وہ عطیہ جو اتنی بڑی اہمیت کا حامل ہے، وہ یہ ہے کہ آپ چار رکعت نماز پڑھیں ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھیں پھر جب آپ پہلی رکعت میں قرأت سے فارغ ہو جائیں تو رکوع میں جانے سے پہلے پندرہ مرتبہ ’’سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ‘‘پڑھیں پھر رکوع میں جائیں اور رکوع ہی کی حالت میں دس مرتبہ پھر انہیں کلمات کو دھرائیں پھر رکوع سے سر اٹھا نے کے بعد بھی انہیں کلمات کا دس مرتبہ ورد کریں، اس کے بعد سجدہ میں جائیں اور سجدے کے اندر بھی انہیں کلمات کو دس مرتبہ دھرائیں پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ انہیں کلمات کو دھرائیں ،پھر دوسرے سجدہ میں جائیں اور اس میں بھی دس مرتبہ انہیں کلمات کو دھرائیں، پھر دوسرے سجدہ سے سر اٹھا نے کے بعد جلسۂ استراحت میں بھی دس مرتبہ انہیں کلمات کو دھرائیں، اس طرح ایک رکعت میں مجموعی طور پر یہ تسبیحات ۷۵؍پچھتر مرتبہ دھرائی جاتی ہیں۔ ایسے ہی پہلی رکعت کی طرح من و عن بقیہ اور رکعتوں میں بھی تسبیحات کے انہیں کلمات کو دھرائیں، اس طرح چار رکعتوں کے اندر تسبیحات کی مجموعی تعداد تین سو پہنچ جاتی ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے عم محترم اگر دن میں ایک مرتبہ پڑھنے کی استطاعت ہو تو ضرور ایسا کیجئے لیکن اگر ایسا کر نا ممکن نہ ہو، تو ہفتہ میں ایک مرتبہ پڑھا کیجئے اور ہفتہ میں بھی نہ ہو سکے تو مہینہ میں ایک مرتبہ پڑھ لیا کیجئے اور اگر مہینہ میں بھی نہ ہو سکے: تو سال ہی میں ایک مرتبہ پڑھا کیجئے اور اگر سال میں بھی نہ ہوسکے تو زندگی میں ایک مرتبہ پڑھ لیا کیجئے ۔
یہ ہے صلوٰۃ التسبیح کا طریقہ حدیث کی روشنی میں؛ لیکن کچھ علماء نے صلوٰۃ التسبیح کی مشروعیت میں کلام کیا ہے اور کہا ہے کہ صلوٰۃ التسبیح کے متعلق یہ حدیث ضعیف ہے۔ شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ صاحب رحمہ اللہ نے ’’مرعاۃ المفاتیح طباعت اولیٰ،ج۲ ص:۲۵۳‘‘ کے اندر بیان کیا ہے کہ ’’واعلم انہ اختلف کلام العلماء فی حدیث صلوٰۃ التسبیح و ضعفہ جماعۃ منھم العقیلی و ابن العربی والنووی فی شرح المہذب و ابن تیمےۃ و ابن عبد الھادی و المزنی والحافظ فی التلخیص ‘‘ یعنی علماء کی ایک جماعت نے صلوٰۃ التسبیح کی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، انہیں ضعیف قرار دینے والوں میں سے العقیلی،ابن العربی،ابن تیمیہ،ابن عبد الھادی اور مزنی ہیں اسی طرح امام نوویؒ نے بھی اس حدیث کو شرح المہذب کے اندر ضعیف قرار دیا ہے،اور حافظ ابن حجر ؒ نے بھی ’’التلخیص‘‘ میں اس کو ضعیف قرار دیا ہے، لیکن اس سلسلہ میں امام نوویؒ اور حافظ ابن حجر رحمھما اللہ دونوں کے قول کے اندر کھلا ہوا تضاد پایا جا تا ہے ۔امام نوویؒ نے شر ح المہذب کے اندر بیان کیا ہے کہ’’حدیثھا ضعیف و فی استحبابھا عندی نظر لان فیھا تغییر الھأۃ للصلوٰۃ المعروفۃ فینبغی أن لا تفعل و لیس حدیثھا ثابت‘‘ یعنی صلوٰۃ التسبیح کی حدیث ضعیف ہے اور میرے نزدیک صلوٰۃ التسبیح کے استحباب میں کلام ہے، اس لیے کہ صلوٰۃ التسبیح کا طریقہ عام نمازوں کی حالت سے بدلاہوا ہے اور مناسب ہے کہ صلوٰۃ التسبیح نہ پڑھی جائے ،کیوں کہ اس سلسلہ میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے لیکن یہی امام نووی رحمہ اللہ اپنی مشہور کتاب تہذیب الاسماء واللغات کے اندر فرماتے ہیں:’’قد جاء فی صلوٰۃ التسبیح حدیث حسن فی کتاب الترمذی و غیرہ وذکرہ المحاملی و غیرہ من اصحابنا وھی سنۃ حسنۃ‘‘۔ ( تحفۃ الاحوذی:ج۳ ص:۱۸۸ باب صلوٰۃ التسبیح )۔
یعنی صلوٰۃ التسبیح سے متعلق ترمذی و دیگر کتابوں میں حسن حدیث پائی جاتی ہے اور محاملی اور ان کے علاوہ ہمارے دیگر شوافع بھائی بھی کہتے ہیں کہ صلوٰۃ التسبیح یہ بہترین سنت ہے، اسی طرح صلوٰۃ التسبیح کے سلسلہ میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے کلام میں بھی تضاد موجود ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تلخیص کے اندر بیان کر تے ہیں :’’والحق ان طرقہ کلہا ضعیفہ و ان کان حدیث ابن عباس یقرب من شرط الحسن الا انہ شاذۃ شدۃ الفردےۃ فیہ و عدم المتابع والشاھد من وجہ معتبر و مخالفۃ ھےئتھا لھےءۃ باقی الصلوٰت و موسیٰ بن عبد العزیز و ان کان صادقا صالحاً ولا یحمل فیہ ھذا التفرد ‘‘۔ یعنی صلوٰۃ التسبیح کے متعلق جتنی حدیثیں ہیں سب ضعیف ہیں سوائے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے آنے والی حدیث تو یہ حسن کے شرط کے قریب ہے لیکن اس کے باوجود یہ حدیث شاذ ہے کیوں کہ اس حدیث کی سند میں تفرد پایا جا تا ہے اور کسی صحیح اور معتبر روایت سے اس کی متابعت نہیں ملتی ہے، مزید صلاۃ التسبیح کا طریقہ دیگر نمازوں سے مختلف بھی ہے اور اس حدیث کی سند میں ایک راوی موسی بن عبد العزیز ہیں، جو اگرچہ فی نفسہ صدوق اور صالح ہیں، لیکن اس طرح کا تفرد ان سے قبول نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن حافظ بن حجر رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’الخصال المکفرۃ للذنوب المقدمۃ والمؤخرۃ‘‘ کے اندر بیان کر تے ہیں ’’رجال اسنادہ لا باس بھم، عکرمۃ احتج بہ البخاری والحکم صدوق و موسی بن عبد العزیز قال فیہ ابن معین لا اری بہ باسا و قال النسائی کذلک قال ابن المدینی فھٰذا الاسناد من شرط الحسن فان لہ شواھد تقویہ‘‘۔ (تحفۃ الاحوذی ج۲ ص:۳۸۸)
یعنی اس حدیث کی سند میں جتنے راوی ہیں ان کے بارے میں کوئی حرج نہیں وہ لائق استدلال ہیں ۔اس حدیث کی سند میں ایک راوی عکرمہ ہیں ،امام بخاری نے ان سے حجت پکڑی ہے اسی طرح ایک راوی حکم النیساپوری ہیں جو صدوق ہیں اور ایک راوی موسی بن عبد العزیز ہیں ، ابن معین ان کے بارے میں کہتے ہیں :کہ میں ان کے بارے میں کوئی حرج نہیں سمجھتاہوں اور اسی طرح کا جملہ امام نسائی ؒ نے بھی استعمال کیا ہے اور علی ابن مدینی کہتے ہیں کہ یہ سند حسن کی شرط پر ہے، مزید اس حدیث کے بہت سے شواھد ہیں جس سے حدیث کو تقویت مل جاتی ہے ۔اسی طرح ابن الجوزی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث پر سخت کلام کیا ہے اور اس کو موضوعات میں شمار کیا ہے ،وہ کہتے ہیں کہ اس کی سند میں ایک راوی موسی بن عبد العزیز مجہول ہے لیکن ابن الجوزی رحمہ اللہ کی یہ بات بھی درست اور صحیح نہیں ہے اس لیے کہ یحیی بن معین اور امام نسائی رحمہما اللہ نے موسی بن عبد العزیز کی توثیق کی ہے اور جن کی توثیق یحیی بن معین اور امام نسائی رحمہما اللہ کر دیں ا س کی حالت بعد میں آنے والے لوگوں پر مجہول بھی رہ جائے، تو اس سے کوئی نقصان نہیں پہونچتا ہے۔
یہ تھے وہ حضرات جو صلوٰۃ التسبیح کے متعلق آنے والی اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہیں لیکن ان کے علاوہ علماء کی ایک جماعت اس حدیث کو صحیح یا حسن ضرور قرار دیتی ہے ،انہیں میں سے جن لوگوں نے اس حدیث کو صحیح یا حسن قرار دیا ہے درج ذیل ہیں:
(۱) ابوبکر الاجری،(۲) ابو محمد عبد الرحیم المصری،(۳) حافظ ابوالحسن المقدسی،(۴) ابو داؤد صاحب السنن،(۵) امام مسلم رحمہ اللہ صاحب الجامع الصحیح،(۶) حافظ صلاح الدین العلائی،(۷) خطیب بغدادی،(۸) حافظ ابن صلاح،(۹) امام سبکی،(۱۰) سراج الدین البلقینی،(۱۱)ابن مندۃ،(۱۲)امام حاکم،(۱۳)امام منذری،(۱۴) ابو موسی المدینی،(۱۵)امام زرکشی،(۱۶)امام نووی نے تہذیب الاسماء واللغات کے اندر(۱۷)ابو سعید السمعانی،(۱۸)حافظ ابن حجر نے الخصال المکفرۃ اور امالی الاذکار میں(۱۹)ابو منصور الدیلمی،(۲۰)امام بیہقی،(۲۱)امام دار قطنی اور دیگر لوگوں نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے(بحوالہ: مرعاۃ المفاتیح ص:۲۵۳)امام مسلم رحمہ اللہ اس حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ ’’لا بروی فیھا اسناد احسن من ھٰذا بہ‘‘ (عون المعبود ‘‘ص:۱۲۴ ج:۲جز ۴)۔ یعنی صلوٰۃ التسبیح سے متعلق سب سے بہترین سند یہی ہے، ابن شاہین ترغیب کے اندر کہتے ہیں :’’سمعت ابا بکر بن ابی داؤد یقول سمعت ابی یقول أصح حدیث فی صلوٰۃ التسبیح ھٰذا‘‘ (عون المعبود ‘‘۔ص:۱۲۴ ج۲ جز ۴)۔
ٍٍ یعنی ابو بکر کہتے ہیں کہ میں نے پنے والد کو فرماتے ہوئے سنا کہ صلوٰۃ التسبیح سے متعلق سب سے صحیح حدیث یہی ہے، اس طرح امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا ہے :’’کان عبد اللہ ابن المبارک یصلیھا و تداولھا الصالحون بعضھم عن بعض و فیہ تقوےۃ للحدیث‘‘ ۔(عون المعبود:ج۲ ص:۱۲۴ج۲ جز ۴)
یعنی عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ بھی صلوٰۃ التسبیح کا اہتمام کر تے تھے اور سلف صالحین سے بھی صلوٰۃ التسبیح کا طریقہ منقول ہے جس کی وجہ سے حدیث کو تقویت حاصل ہو جاتی ہے اسی طرح سے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکی یہ حدیث دوسرے طریق سے بھی آئی ہو ئی ہے جس میں موسیٰ بن عبد العزیز کی متابعت ابراہیم بن حکم نے کی ہے اور عکرمہ کی متابعت عطاء اور مجاھد نے کی ہے۔(بحوالہ عون المعبود :ج۲ص:۱۳۵ جز۴) اور صرف یہی نہیں کہ صلوٰۃ التسبیح سے متعلق وارد ہو نے والی حدیث اکیلے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے بلکہ بہت سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی حدیث وارد ہوئی ہے ،مثلاً حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ ،عبد اللہ بن عمرو، عبد اللہ بن عمر،علی بن ابو طالب، جعفررضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بیٹے عبد اللہ بن جعفر اسی طرح ابو رافع، ام سلمۃ اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم سے بھی یہ حدیث منقول ہے ۔(بحوالہ مرعاۃ المفاتیح:ص۲۵۲)
خلاصہ کلام یہ کہ صلوٰۃ التسبیح سے متعلق حدیث صحیح ہے اور اس پر عمل کر نا بالکل درست اور جائز ہے ۔شیخ الحدیث عبید اللہ محدث مبارکپوری رحمہ اللہ کہتے ہیں :’’والحق عندی ان حدیث ابن عباس لیس بضعیف فضلاً عن ان یکون موضوعاً اوکذبا بل ھو حسن لا شک فی ذالک عندی فسندہ لا ینحط عن درجۃ الحسن بل لایبعدان یقال انہ صحیح لغیرہ بما ورد من شوا ھدہ و بعضھا لا بأس‘‘۔ یعنی میرے نزدیک عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ضعیف نہیں چہ جائے کہ وہ موضوع اور من گھڑت ہو بل کہ اس حدیث کے حسن ہو نے میں کوئی شک نہیں بل کہ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ دیگر شواھد کی بنیاد پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے تو کوئی بعید بات نہیں ہے۔(مرعاۃ المفاتیح ج۲ ص: ۲۵۳)۔
مولانا عبد الرحمٰن محدث مبارکپوری رحمہ اللہ نے بھی تحفۃ الاحوذی ج۲ کے اندر بیان کیا ہے:’’والظاھر عندی لا ینحط عن درجۃ الحسن‘‘ یعنی میرے نزدیک بھی یہ حدیث حسن کے درجہ سے کم نہیں ہے۔یہی علامہ البانی رحمہ اللہ کا بھی نظریہ ہے کہ ’’صلوٰۃ التسبیح‘‘ سے متعلق حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث صحیح ہے۔
٭٭٭٭٭٭

 بشکریہ 
بشکریہ :  مولانا عادل سعیدی  مدظلہ  /  مولانا احمد سعید پالنپوری   مدظلہ 
مکمل تحریر >>

صلوٰۃ التسبیح : اہمیت وفضیلت اور پڑھنے کا طریقہ : مولانا محمد نجیب قاسمی


صلوٰۃ التسبیح :  اہمیت وفضیلت اور پڑھنے کا طریقہ
(مولانا محمد نجیب قاسمی)

الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی النبی الکریم وعلی آلہ واصحابہ اجمعین.

قیامت تک آنے والے سارے انس وجن کے نبی ﷺ کے ارشادات میں صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کی خاص فضیلت وارد ہوئی ہے اور وہ  فضیلت یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سابقہ گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے. صلوٰۃ التسبیح سے متعلق یہ مختصر مضمون تحریر کررہا ہوں تاکہ ہم حسب سہولت اس نماز کی بھی ادائیگی کرلیا کریں. االله تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے.

وجہ تسمیہ: اس نماز میں االله تعالی کی تسبیح کثرت سے بیان کی جاتی ہے اس لئے اس نماز کو صلوٰۃ التسبیح کہا جاتا ہے. سبحان اللہ والحمد للہ ولاإلہ إلا اللہ واللہ اکبرکہنا الله تعالی کی تسبیح ہے. اس نماز کی ہر رکعت میں یہ کلمات 75 مرتبہ پڑھے جاتے ہیں، اس طرح چار
رکعت پر مشتمل اس نماز میں 300 مرتبہ تسبیح پڑھی جاتی ہے.

صلوٰۃ التسبیح کی شرعی دلیل:
حضرت عبد االله بن عباس رضی االله عنہما سے روایت ہے  کہ حضور اکرم ﷺ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی االله عنہ سے فرمایا: اے میرے چچا عباس! کیا میں تمہیں ایک تحفہ، ایک انعام اور ایک بھلائی یعنی ایسی دس خصلتیں نہ بتاؤں کہ اگر آپ ان پر عمل کریں تو الله تعالی آپ کے سارے گناہ پہلے اور بعد کے، نئے اور پرانے، دانستہ اور نادانستہ، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر سب معاف فرمادے. وہ دس خصلتیں (باتیں) یہ ہیں کہ   ۔ ۔
آپ چار رکعت نماز ادا کریں، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ   اور ایک سورۃ پڑھیں. جب آپ پہلی رکعت میں قراء ت سے فارغ ہوجائیں  تو قیام ہی کی حالت میں پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھیں (سبحان اللہ والحمد للہ ولاإلہ إلا اللہ واللہ اکبر) پھر رکوع کریں، (سبحان ربی العظیم کہنے کے بعد) رکوع ہی میں دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں. پھر رکوع سے سر اٹھائیں اور (قومہ کے کلمات ادا کرنے کے بعد پھر) دس مرتبہ تسبیح پڑھیں. اس کے بعد سجدہ کریں (سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہنے کے بعد) دس مرتبہ پھر یہی تسبیح پڑھیں. پھر سجدہ سے   اٹھ کر دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں. دوسرے سجدہ میں جاکر  (سبحان ربی الاعلی کہنے کے بعد) دس مرتبہ تسبیح پڑھیں. پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ تسبیح  پڑھیں. اس طرح ایک رکعت میں تسبیحات کی کل تعداد پچھتر (75) ہوگئی. چاروں رکعتوں میں آپ یہی  عمل دہرائیں.
(اے میرے چچا )  ! اگر آپ ہر روز ایک مرتبہ صلوٰۃ التسبیح پڑھ سکتے ہیں تو پڑھ لیں. اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار  پڑھ لیں. اگر ہفتہ میں بھی نہ پڑھ سکیں تو پھر ہر مہینہ میں ایک مرتبہ پڑھ لیں. اگر مہینے میں بھی نہ پڑھ سکیں تو ہر سال میں ایک مرتبہ پڑھ لیں. اگر سال میں بھی ایک بار نہ پڑھ سکیں تو ساری زندگی میں ایک بار پڑھ لیں.
(سنن ابوداود ج 1 190 باب ص صلوۃ التسبیح. جامع
الترمذی ج 1 109 باب ما جاء فی صلوۃ التسبیح ص. سنن
ابن ماجہ ج 1 99 باب ماجاء فی صلوۃ التسبیح ص.
الترغیب والترھیب للمنذری ج 1 268 الترغیب ص فی صلوۃ التسبیح)
) نوٹ: یہ حدیث حدیث کی بیسیوں کتابوں میں مذکور ہے مگر اختصار کے مدنظر صرف 4 کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے. )

ایک دوسرا طریقہ بھی صلوٰۃ التسبیح کے متعلق مروی ہے. وہ یہ ہے کہ  ۔ ۔ ۔
ثناء پڑھنے کے بعد مذکورہ تسبیح پندرہ مرتبہ پڑھی جائے، پھر رکوع سے پہلے، رکوع کی حالت میں، رکوع کے بعد، سجدہ اولی میں، سجدہ کے بعد بیٹھنے کی حالت میں، پھر دوسرے سجدہ میں دس دس بار پڑھی جائے. پھر دوسرے سجدہ کے بعد نہ بیٹھیں بلکہ کھڑے ہوجائیں. باقی ترتیب وہی ہے.
(جامع الترمذی ج 1 ص 109 باب ماجاء فی صلوۃ التسبیح. الترغیب والترہیب للمنذری ج 1 ص 269 الترغیب فی صلوٰۃ التسبیح)

اس حدیث کے فوائد:
1.      اس حدیث میں صلوٰۃ التسبیح کی فضیلت کا بیان، اسکی تعداد رکعت کا ذکر اور نماز کی کیفیت کا بیان ہوا، نیز اس نماز کو وقتا فوقتا  پڑھنے کا استحباب بھی معلوم ہوا.
2.      حضور اکرم ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی االله عنہ کی عزت افزائی ہوئی
3.      اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ کو امت مسلمہ کی کتنی فکر رہا کرتی تھی.
4.      اس حدیث سے شریعت اسلامیہ کے ایک اہم اصول (ان الحسنات ےذہبن السےئات یعنی نیکیاں گناہوں کو مٹاتی ہیں) کی تائید  ہوتی ہے.

صلوٰۃ التسبیح کی اہم فضیلت سابقہ ​​گناہوں کی مغفرت:
صلوٰۃ التسبیح سے متعلق حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:
االله تعالی اس نماز کے پڑھنے کی برکت سے سارے گناہ پہلے اور بعد کے، نئے اور پرانے، دانستہ اور نادانستہ، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر سب معاف فرمادیتا ہے. یقینا ہم گناہ گار ہیں، ہمیں اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کے ساتھ وقتا فوقتا صلوٰۃ التسبیح کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ ہمارے گناہ  معاف ہوجائیں. گناہوں کی معافی میں نماز کا بڑا اثر ہے، چنانچہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا اور وہ حضور اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے اپنے گناہ کے ارتکاب کا اقرار کیا تو االله تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی :  وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ طَرَفَىِ ٱلنَّہَارِ وَزُلَفً۬ا مِّنَ ٱلَّيۡلِ‌ۚ إِنَّ ٱلۡحَسَنَـٰتِ يُذۡهِبۡنَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ‌ۚ ذَٲلِكَ ذِكۡرَىٰ لِلذَّٲكِرِينَ (١١٤)(سورۃ ہود (114)  ترجمہ : دن کے دونوں سروں میں نماز قائم رکھ اور رات کے کچھ حصہ میں بھی. یقینا نیکیاں برائیوں کو  دور کردیتی ہیں)
 تو اس شخص نے حضور اکرم ﷺ سے فرمایا کہ یہ صرف میرے لئے ہے؟ حضور اکرم ﷺ نے  ارشا د فرمایا: یہ فضیلت میری پوری امت کے لئے ہے.

شریعت کا اصول (نیکیوں سے گناہ مٹتے ہیں) ایک شخص کے واقعہ پر نازل ہوا مگر قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے ہے. اسی طرح حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ پانچوں نمازیں، جمعہ کی نماز پچھلے جمعہ کی نماز تک اور رمضان کے روزے پچھلے رمضان تک درمیانی اوقات کے گناہوں کے لئے کفارہ ہیں جبکہ ان اعمال کو کرنے والا بڑے گناہوں سے بچے. (صحیح مسلم) غرضیکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ
نماز کے ذریعہ االله تعالی گناہوں کی مغفرت فرماتا ہے.
نیز متعدد احادیث میں وارد ہے کہ ذکر کے ذریعہ االله تعالی گناہوں کی مغفرت فرماتا ہے اور صلوٰۃ التسبیح میں وارد (سبحان اللہ والحمد للہ ولاإلہ إلا اللہ واللہ اکبر) ذکر ہی تو ہے. غرضیکہ نماز سے سابقہ ​​گناہوں کی مغفرت کا ہونا ایسا امر ہے جو قرآن وسنت سے ثابت ہے.صلوٰۃ التسبیح بھی ایک نماز ہے، لہذا اس کے ذریعہ سابقہ گناہوں کی مغفرت پر کوئی شک وشبہ نہیں ہونا چاہئے.

سلف صالحین کا صلوٰۃ التسبیح کا اہتمام:
مشہور ومعروف محدث امام بیہقی (384 ھ .458 ھ) نے حدیث کی مشہور کتاب (شعب الایمان 1/247) میں تحریر کیا ہے کہ امام حدیث شیخ عبداالله بن مبارک (118 ھ .181 ھ) صلوٰۃ التسبیح پڑھا کرتے تھے اور دیگر سلف صالحین بھی اہتمام کرتے تھے. اس موضوع پر زمانہ قدیم سے محدثین، مفسرین، فقہاء وعلماء نے متعدد کتابیں تحریر فرماکر صلوٰۃ التسبیح کے صحیح ہونے کے متعدد دلائل ذکر فرمائے ہیں، جن میں سے امام حافظ ابوبکر
خطیب بغدادی (392 ھ .463 ھ) کی کتاب (ذکر صلوٰۃ التسبیح) کافی اہم ہے.

صلوٰۃ التسبیح کا وقت:
اس نماز کے لئے کوئی وقت نہیں ہے، دن یا رات میں جب چاہیں ادا کرسکتے ہیں سوائے ان اوقات کے جن میں حضور اکرم ﷺ نے نماز پڑھنے  سے منع فرمایا ہے. حضور اکرم ﷺ نے خود وضاحت فرمادی ہے کہ اگر آپ ہر روز ایک مرتبہ نماز تسبیح پڑھ سکتے ہیں تو پڑھیں. اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھیں. اگر ہفتہ میں بھی نہ پڑھ سکیں تو پھر ہر مہینہ میں ایک مرتبہ پڑھیں. اگر مہینے میں بھی نہ پڑھ سکیں تو ہر سال میں ایک مرتبہ پڑھیں. اگر سال میں بھی ایک بار نہ پڑھ سکیں تو ساری زندگی میں ایک بار پڑھ لیں.

صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کا طریقہ:
پہلا طریقہ:
جس طرح چار رکعت ادا کی جاتی ہے اسی طرح چار رکعت نماز ادا کریں. جب آپ پہلی رکعت میں قراء ت سے فارغ ہوجائیں تو رکوع   میں جانے سے قبل قیام ہی کی حالت میں پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھیں  (سبحان اللہ والحمد للہ ولاإلہ إلا اللہ واللہ اکبر) پھر رکوع کریں، (سبحان ربی  العظیم کہنے کے بعد) رکوع ہی  میں دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں. پھر رکوع سے سر اٹھائیں اور (قومہ کے کلمات ادا کرنے کے بعد پھر) دس مرتبہ تسبیح پڑھیں. اس کے بعد سجدہ کریں (سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہنے کے بعد) دس مرتبہ پھر یہی تسبیح پڑھیں. پھر سجدہ سے اٹھ کر دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں. دوسرے سجدہ میں جاکر (سبحان ربی الاعلی کہنے کے بعد) دس مرتبہ تسبیح پڑھیں. پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ تسبیح پڑھیں. اس طرح ایک رکعت میں تسبیحات کی کل تعداد پچھتر (75) ہوگئی. چاروں رکعتوں میں آپ یہی عمل دہرائیں.

دوسرا طریقہ:
 ثناء پڑھنے کے بعد مذکورہ تسبیح پندرہ مرتبہ پڑھی جائے، پھر رکوع سے پہلے، رکوع کی حالت میں، رکوع کے بعد، سجدہ اولی میں، پہلے سجدہ کے بعد
بیٹھنے کی حالت میں، پھر دوسرے سجدہ میں دس دس بار پڑھی جائے. پھر دوسرے سجدہ کے بعد نہ بیٹھیں بلکہ کھڑے ہوجائیں. باقی ترتیب وہی ہے.


الله تبارک وتعالی ہم سب کو االله تعالی کے احکام وحضور اکرم ﷺ کے ارشادات کے مطابق زندگی گزارنےوالا بنائے. آمین.


بشکریہ :  مولانا عادل سعیدی  مدظلہ  /  مولانا احمد سعید پالنپوری   مدظلہ 
مکمل تحریر >>

Monday, 15 June 2015



!!!! رمضان المبارک کیسے گزاریں!!!! 




محرر: حضرت مولانا  احمد سعید پالنپوری مدظلہ
استاذ جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنی، محلہ خانقاہ دیوبند 
احباب!
 رمضان المبارک کی آمد ہوا چاھتی ہے، گیارہ مہینے مخلوق خدا کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں ہم، ایک مہینہ خالق کیلے خاص کرنا چاہیئے، ہوسکتا ہے کہ آنے والا رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو، یا ہمیں یہ سوچنا چاہیئے کہ یہ رمضان ہمارا آخری رمضان ہے، اس رمضان میں ہی ہمیں نامۂ اعمال میں خوب نیکیاں داخل کرنی ہیں ، اور تمام گناہوں کو نامۂ اعمال سے ختم کرنا ہے، توبہ و استغفار، انابت و رجوع الی اللہ میں اپنا وقت زیادہ سے زیادہ مشغول رکھنا چاہیئے،
 رمضان المبارک میں اپنا نظام الاوقات ترتیب دینا چاہیئے، اس لئے کہ شیطان تو بیڑیوں میں جگڑ دیا جاتا ہے، مگر نفس تو ہمہ وقت ساتھ لگا ہوا ہے، وہ ہماری راہ مارے گا۔
اکابر کے طریقوں کو اگر دیکھیں، تو وہ رمضان المبارک کے مہینہ میں قرآن کریم کی خوب تلاوت کیا کرتے تھے، ہمیں بھی انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے تلاوت قرآن کریم کو اپنا مشغلہ بنانا چاہیئے، سب سے پہلے تو یہ سوچیں کہ ہم رمضان المبارک میں کتنا وقت تلاوت قرآن کریم میں صرف کرسکتے ہیں، پھر ان اوقات کو تقسیم کریں کہ ہم ان اوقات میں کتنا قرآن کریم پڑھ سکتے ہیں، روزانہ کا ایک پارہ پکڑ لیں، تمام اوقات میں اسی ایک پارہ کو بیس پچیس مرتبہ پڑھ لیں، اس طرح روزانہ کرتے رھیں، ان شاء اللہ رمضان المبارک کے اختتام پر آپ کے بیس پچیس قرآن کریم ختم ہوجائیں گے۔۔۔۔۔
 ساتھ ساتھ میں چلتے پھرتے ذکر و اذکار میں مشغول رہیں، دکان پر بیٹھے ہوئے یاد خداوندی کو مشغلہ بنائیں، گھر سے مسجد جاتے ہوئے کلمۂ طیبہ کا ورد کریں، مسجد سے گھر آتے ہوئے درود شریف پڑھیں، واٹس ایپ اور فیس بک کے استعمال کو یا تو ختم کردیں، یا محدود کردیں،

ہمارے اکابر رمضان المبارک میں تصنیف و تالیف بند کردیا کرتے تھے، اور ہمہ وقت تلاوت قرآن کریم میں مشغول رہا کرتے تھے،ہمیں بھی انہیں حضرات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ کار آمد بنانا چاہیئے، اور اکابر کے نقش قدم پر چلنا چاہیئے –

دوسری بات………

آنے والے رمضان المبارک کی خیر و برکتیں صرف ہمیں ہی نہیں حاصل کرنی ہے، ہمارے گھر کی مستورات کو بھی اسکا موقع ملنا چاہیئے ، سب سے پہلے تو اپنے گھر کی مستورات کو جمع کرکے شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ کی مشہور و معروف کتاب فضائل رمضان کی تعلیم کرنی چاہیئے، تاکہ ہم میں بھی اور گھر والوں میں بھی شوق و ذوق پیدا ہو۔  پھر گھر کی مستورات کا نظام الاوقات ترتیب دینا چاہیئے، کہ کونسا کام کس وقت انکو کرنا ہے، اور انکو انہیں اوقات میں وہ کام کرنے کا پابند کرنا چاہیئے، خالی اوقات میں انکو تلاوت قرآن کریم میں مشغول کرنا چاہیئے۔
مدارس اور تبلیغ کی برکت سے ہمارا قرآن کریم پڑھنا تو اچھا ہوگیا ہے، مگر ہمارے گھر کی مستورات عموماً قرآن کریم صحیح نہیں پڑھا کرتی، تجوید کے قواعد سے ناواقفیت کی بناء پر، لہذا  ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم انکا قرآن کریم صحیح کریں، تجوید کے ہلکے پہلکے قواعد بتاکر انکی تلاوت کو صحیح کرنے کی کوشش کریں، ہم لوگ رمضان المبارک میں گھر کی مستورات پر کام کی بہتات کردیتے ہیں، ایک ایک دن میں کئی کئی قسم کے پکوان بنواتے ہیں، یہ بھی مناسب نہیں ہے، گرمی کا موسم ہے، چولہے کی گرمی بھی ہے، اور وہ روزے سے بھی ہیں، خدارا ان پر رحم کریں، طرح طرح کے پکون نہ بنوائیں، سادا کھانا پکوائیں، پیٹ کیلے تلی ہوئی چیزیں نقصاندہ بھی ہوتی ہیں،سادہ پکوائیں گے، اور سادہ کھائیں گے تو انکو بھی آرام کا وقت ملےگا، اور نظام ہضم بھی صحیح رہے گا، کبھی کبھی خود بھی گھریلو کاموں میں حصہ لیں، تاکہ انکا کام جلدی ختم ہوجائے، تلاوت کرتے ہوئے اگر ہم آلو پیاز چھیل دیں، تو اس سے ہم جورو کے غلام نہیں بن جائیں گے، بلکہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے کہلائیں گے، گھر کی مستورات کو اس کا بھی پابند کریں کہ وہ گھریلو کام کرتے ہوئے ذکر و ازکار میں مشغول رہیں،، اور کام کرتی رہیں، سبزی کاٹتے ہوئے استغفار پڑھیں، آٹا گوندھتے ہوئے، اور روٹی بناتے ہوئے جو سورتیں زبانی یاد ہیں انکی تلاوت کرتی رہیں، سالن بناتے ہوئے اللہ اللہ کھتی رہیں۔

 ان شاء اللہ اگر ہم لوگ اس طریقے سے رمضان المبارک گزارنے کی ترتیب بنالیں، تو یہ ہمارے، اور ہمارے گھر والوں کیلے بہت بہتر رہے گا۔
 اللہ سبحانہ وتعاليٰ ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے   ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین
مکمل تحریر >>