Wednesday, 8 November 2017

تقلید کیوں ضروری ھے ؟

تقلید کیوں ضروری ھے ؟

بہت سے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جب ہم خود قرآن و حدیث پڑھ سکتے ہیں اور احادیث کی کتابوں سے اور قرآن سے اپنے مسائل کا حل دریافت کر سکتے ہیں تو پھر ہمیں مجتہدین کی تقلید کی کیا ضرورت ہے؟
جواب
اگر کسی کو علوم قرآن اور علوم حدیث میں اتنی ہی نظر ہو تو پھر وہ شخص خود مجتہد ہے اور اسے واقعی کسی کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اگر کوئی قرآن میں ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ، مطلق و مشروط آیات، لغات عرب کا عالم ہو اور حدیث کے مندرجہ ذیل علوم کا ماہر ہوتو پھر واقعا اس پر سے تقلید ساقط ہی ہو جائے گی اور وہ علوم احادیث درج ذیل ہیں جن کو مجتہد بننے کے لئے حاصل کرنا ضروری ہے۔
1 محدث کی صداقت کا علم
2 اسناد حدیث کا علم
3 حدیث عالی کا علم
4 حدیث نازل کا علم
5 روایات موقوفہ کا علم
6 ان اسناد کا علم جس کی سند پیغمبر اسلام سے ذکر نہ ہو
7 صحابہ کے مراتب کا علم
8 احادیث مرسلہ اور ان کے سلسلے میں پیش کی جانے والی دلیلوں کی معرفت
9 تابعین سے نقل کی گئی احادیث کا علم
10 اسناد مسلسل کا علم
11 احادیث معنعنہ کا علم
12 روایات معضل کا علم
13 احادیث مدرج کی پہچان کا علم
14 تابعین کی شناخت کا علم
15 تباع تابعین کی معرفت
16 اکابر و اصاغر کی معرفت
17 اولاد اصحاب کی معرفت
18 علم جرح و تعدیل کی معرفت
19 صحیح و سقیم کی پہچان
20 فقہ الحدیث کا علم
21 ناسخ و منسوخ احادیث کا علم
22 متن میں جو غریب (نامانوس) الفاظ استعمال ہوں ان کا علم
23 احادیث مشہور کا علم
24 غریب اور نامانوس احادیث کا علم
25 احادیث مفرد کی پہچان کا علم
26 ان لوگوں کی معرفت جو حدیث میں تدلیس کر دیتے ہیں
27 حدیث کی علتوں کا پہچاننا
28 شاذ روایات کا علم
29 پیغمبر کی ان حدیثوں کا جانچنا جو دوسری احادیث سے معارض نہ ہو
30 ان حدیثوں کی معرفت جن کا کوئی رخ کسی رخ سے معارض نہ ہو
31 احادیث میں الفاظ زائد کی معرفت
32 محدیثین کے مذہب کی اطلاع
33 متون کی تحری غلطیوں سے آگاہی
34 مذاکرہ حدیث کا جانچنا اور مذاکرہ کرتے ہوئے راستگو کی معرفت
35 اسناد میں محدثین کی تحریری غلطیوں کی اطلاع
36 صحابہ، تابعین اور ان کے بھائیوں،بہنوں  کی عصر حاضر تک معرفت
37 ان صحابہ، تابعین،تباع تابعین کی معرفت جن میں سے بس ایک راوی نے روایت کی ہو
38 ان صحابہ تابعین اور ان کے پیرئووں میں سے جو راوی ہیں عصر حاضر تک ان کے قبائل کی معرفت
39 صحابہ سے عصر حاضر تک کے محدثین کے انساب کا علم
40 محدثین کے ناموں کا علم
41 صحابہ، تابعین، تباع تابعین اور عصر حاضر تک ان کے پیرئوں کی نیت کا جاننا
42 روایان حدیث کے وطن کی پہچان
43 صحابہ، تابعین، تباع تابعین کی اولاد اور ان کے غلاموں کی معرفت
44 محدثین کی عمر کی اطلاع۔ولادت سے وفات تک
45 حدثین کے القابات کی معرفت
46 ان راویوں کی معرفت جو ایک دوسرے سے قریب ہیں
47 راویوں کے قبائل، وطن، نام، کنیت اور ان کے پیشوں میں متشابہات کی پہچان
48 غزوات پیغمبر ان کے ان خطوط وغیرہ کا علم جو انہوں نے بادشاہوں کو تحریر فرمائے
49 اصحاب حدیث نے جن ابواب کو جمع کیا ہے ان کی معرفت اور اس بات کی جستجو کہ ان میں سے کون سا حصہ ضائع ہو گیا ہے
50 اس کے علاوہ احادیث کی مندرجہ ذیل اقسام کا علم بھی ہونا چاہئیے۔
1صحیح
2 حسن
3 ضعیف
4 مسند
5 متصل
6 مرفوع
7 موقوف
8 مقطوع
9 مرسل
10 معضل
11 تدلیس
12 شاذ
13 غریب
14 معنعن
15 معلق
16 مفرد
17 مدرج
18 مشہور
19 مصحف
20 عالی
21 نازل
22 مسلسل
23 معروف
24 منکر
25 مزید
26 ناسخ
27 منسوخ
28 مقبول
29 مشکل
30 مشترک
31 موتلف
32 مختلف
33 مطروح
34 متروک
35 مول
36 مبین
37 مجمل
38 معلل
39 مضطرب
40 مہمل
41مجہول
42 موضوع
43 مقلوب
44 حدیث ماثور
45 قدسی
46 عزیز
47 زائد الثقہ
48 موثوق
49 متواتر
اب اگر کوئی شخص تقلید نہ کرنا چاہے تو ٹھیک ہے وہ ان تمام علوم کوحاصل کرے اور احادیث و قرآن سے اپنے مسائل کا حل نکالے اور جو ایسا نہ کرسکے  یا اس کے پاس اتنا وقت نہ ہو تو اس کے پاس سوائے تقلید کرنے کا اور کونسا راستہ رہ جاتا ہے؟


نقل شدہ ۔ ۔ ۔
مکمل تحریر >>

Wednesday, 27 July 2016

..🔨🔨ترک تقلید ۔۔ایک جائزہ 💉💉..

..🔨🔨ترک تقلید ۔۔ایک جائزہ 💉💉..
                          مع
غیرمقلدین کی رہی سہی سمجھداری کے نام اک پیغام
●عامی (جو علم میں راسخ نہ ہو)کے لئے حنفیت و شافعیت وغیرہ کا اختیار کرنا ناگزیر ہے
حنفیت و شافعیت وغیرہ کو چھوڑنے کی صورت"اجتہاد" کی صلاحیت کا پیدا کرلینا ہے
۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔
مجتہد بن جانے کے بعد صرف تقلید سے چھٹکارا ملے گا نہ کہ فروعی مسائل سے
اختلاف کی صورت باقی ہی رہے گی
بلکہ اختلاف اوربڑھ جائے گا
شذوذ و تفرد اختیار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوگا،نہ کہ کمی
فروعی مسائل کو اختلاف کی بنیاد سمجھنے والے کم فہم غیر مقلدو۔۔۔۔۔ سن لو
۔۔۔۔۔کہ
خود اجتہادی کی بنیاد پر اختلاف بڑھے گا نہ کہ مٹے گا
اس لئے اگر آپ کو اتحاد محمود اور اختلاف نا پسند ہے تو غیر مقلدیت ترک کرکے
صحابہ کے اجماع سے مجتمع ہوکر
فروعی مسائل میں اہل کی نگرانی میں دین پرعمل پیرا ہوکر
امت مسلمہ کے انتشار کو ختم کرنے میں معاون بنو.
اللہ تعالیٰ ہم سب کو فہم سلیم عطا فرمائیں.
👇👇👇👇👇👇👇👇👇
            ترک تقلید==> ایک اور جائزہ
                      بشکل سوال
           کتنا درست ہے؟ فیصلہ آپ کریں.
غیر مقلدین کے جملہ فرقے اس بات کو واضح کریں کہ
[ 1 ] اگر کوئی شخص غیر مجتہد اور نا اہل ہوکر ترک تقلید کی راہ اختیار کرنا چاہے تو.....آپ کے اسلاف (جن کی طرف نسبت کرکے آپ خودکو سلفی کہتے ہو) میں سے کس کی راہ اختیار کرے؟
.....عبد الحق بنارسی کی؟
.....نذیر حسین دہلوی کی؟
.....سعید حسین بٹالوی کی؟
.....یا نواب صدیق حسن بھوپالی کی اختیار کردہ ترک تقلید کی راہ؟
.....اگر کسی کی نہیں..... تو .....کیوں نہیں!؟
کیا ان کا اختیار کردہ طریقہ.....ان کے اختیار کردہ مسائل معتبر نہیں تهے؟
.....اگر معتبر نہیں.....تو.....دین کے معاملے میں یہ لوگ غیر معتبر ہوئے.
[ 2 ] اگر ان کا اختیارکردہ طریقہ غیر معتبر ہے تو ان کے بعد.....غیر مقلدین میں کسی اور کا طریقہ معتبر ہوا یا نہیں؟
.....اگر نہیں.....تو.....اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ
.....غیر مقلد چاہے جتنا بڑا عالم بن جائے ہر حال میں غیر معتبر ہی ہوتا ہے.
[ 3 ] کیا آپ کا اختیار کردہ طریقہ معتبر ہے؟.....اگر ہاں.....تو .....اس کا اعتبار آپ کے ساتھ ہی ہوگا.....یا.....آپ کے بعد بھی؟
.....اگر آپ کے ساتھ ہی.....تو....آپ اپنے اختیار کردہ موقف کا پرچار کیوں کرتے ہو؟
.....اگر آپ کے بعد بھی......تو.....آپ سے پہلے لوگوں کا طریقہ کیوں نہیں؟
[ 4 ] اگر آپ کا یا آپ سے پہلوں کا طریقہ معتبر ہے اور ہمیشہ معتبر ہوگا.....تو.....اس معتبر طریقے کی پیروی کیوں غیر معتبر ہوگی؟
.....اگر آپ کی اختیار کردہ دینی راہ معتبر ہے.....تو.....آپ کی پیروی میں اس راہ پر چلنے والا شخص بھی معتبر راہ کا راہی ہوگا......اور اس شخص کا آپ کی راہ کو اختیار کر لینا "تقلید" ہی کہلائے گا.....غیر مقلدیت ہرگز نہیں.
[ 5 ] کسی شخص کی اختیار کردہ معتبر راہ کہ پیروی جائز ہے یا شرک؟.....اگر جائز ہے.....تو......آپ حضرات کی طرف سےاس (تقلید) کی مخالفت کیوں؟
.....اگر ناجائز ہے.....تو.....کس دلیل کی بنیاد پر؟
[ 6 ] اگر آپ کی....آپ سے پہلوں کی.....اور آپ کے بعد آنے والے تمام غیر مقلدین کی راہ معتبر اور قابل تقلید نہیں ہے.....تو.....آپ حضرات کی طرف سے.....اس غیر معتبر راہ کی.....تبلیغ.....کیوں کہ جاتی ہے؟
محترم حضرات! درج بالا جائزے سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے.....کہ......غیر مقلدیت تردید کی چیز ہے نہ کہ ترجیح و تبلیغ کی......
......اور.....اگر بغور غیر مقلدین کے لٹریچر کا جائزہ لیا جائے .....تو.....پتہ چلے گا کہ.....ہم اہل سنت والجماعت سے بهی پہلے
غیر مقلدین خود ہی
"غیر مقلدیت "کی
"غیر مقلدین علماء اور ان کے اختیار کردہ مسائل"کی
"میں اسے نہیں مانتا" کہہ کر.......تردیدکر دیتے ہیں. لیکن. انہیں اس کا شعور نہیں ہوتا.
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائیں.
سمجھدار کی سن لینے والا بنائیں.
"سننا بهی نہیں اور سمجھنا بهی نہیں اس بری بیماری سے ہماری اور پوری امت مسلمہ کی حفاظت فرمائیں.
آمین یا رب العالمین

منجانب:جمعیت اہل سنت والجماعت،مالیگاؤں،الہند
                                               www.ahlesunnatwaljamaat.in



مکمل تحریر >>

Monday, 30 March 2015

تقلید کیوں ضروری ہے؟

سوال :
کیوں تقلید ضروری ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز کو حجة الوداع میں وضاحت سے بیان فرمادیا ہے کہ میں تمہارے لیے قرآن و سنت چھوڑ کرجارہا ہوں، تو صرف قرآن و سنت کی اتباع کرنی چاہیے۔

  Answer: 291 (فتوى: 148/ل=147/ل)  
قرآن وحدیث میں سارے مسائل صراحتاً یا دلالةً آگئے ہیں مگر اس کے باوجود تقلید اس لیے ضروری ہے کہ قرآن و حدیث و سنت میں بعض احکام ایسے ہوتے ہیں جو آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے صراحتاً ثابت ہیں، جن میں بظاہر کوئی تعارض نہیں ہے، اس قسم کے احکام مسائل منصوصہ کہلاتے ہیں، لیکن بعض احکام ایسے ہیں، جن میں کسی قدر ابہام و اجمال ہے اور بعض آیات و احادیث ایسی ہیں جو چند معانی کااحتمال رکھتی ہیں، بعض محکم ہیں بعض متشابہ۔ اور کچھ احکام ایسے ہیں کہ بظاہر قرآن کی کسی دوسری آیت یا دوسری حدیث سے متعارض معلوم ہوتے ہیں اوران کے علاوہ بے شمار ایسے مسائل ہیں جو قرآن و حدیث سے صراحتاً ثابت نہیں، وہاں اجتہاد واستنباط سے کام لینا ہی پڑتا ہے۔ اور ۔ ۔ ۔

تفصیل اس کی یہ ہے کہ کتاب اللہ اصل الاصول ہے۔ سنت، کتاب اللہ کی شریح ہے۔ اور اجماع امت، بعض سنت کا بیان ہے۔ کتاب و سنت کے احکام کی کوئی نہ کوئی علت ضرور ہوتی ہے، البتہ کبھی وہ علت ظاہر ہوتی ہے اور کبھی مخفی۔ مخفی علتوں کو متعین کرنا بہت دشوار ہے، اس کے لیے بڑی دقت نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔

امت کے بعض اہل اللہ سے اللہ نے یہ خدمت لی جن کی قرآن و حدیث اور مزاج شریعت پر بڑی گہری اور پوری نظر تھی، امت کا سوادِ اعظم سلفاً و خلفاً قرنا بعد قرن ان کی امامت اورجلالت شان کا قائل ہے۔

مخفی علتوں کو متعین کرکے نئے نئے مسائل کے احکام معلوم کرنے کا نام اجتہاد ہے اور علل مطلقہ پر غیر منصوص مسائل کو منطبق کرکے علت مشترکہ کی بنا پر منصوص حکم کو غیر منصوص کے لیے ثابت کرنے کا نام قیاس ہے، پس قیاس کی بنیاد کتاب و سنت اور اجماع امت ہی ہے۔ معلوم ہوا کہ ائمہ کے اجتہادی مسائل فقہ درحقیقت حدیث ہی کا نتیجہ ہیں، حدیث کے مقابل کوئی نئی چیز نہیں ہیں و محطہا أن الفقہ ہو ثمرة الحدیث (شامي: ۱/۱۳۸) اور یہ یعنی متعارض نصوص میں جمع و تطبیق اور نصوص سے علت کا نکالنا اور علل سے احکام کااستنباط واستخراج کرنا ہرایک کے بس کی بات نہیں ہے جب کہ مسائل پر خواہ قدیم ہوں یا جدید شرعاً عمل کرنا ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے علماء اورکبار محدثین نے بھی مقلد ہونے کو عار نہیں جانا، بلکہ وہ مقلد تھے اس لیے امت کے قابل اعتبار علمائے دین کا کسی ایک امام کی تقلید پر اجماع ہے خصوصاً اس زمانہ میں جب کہ شریعت پر عمل کرنے کے لیے ہمتیں پست ہیں نفس میں خواہشات کا دخل ہے اور خودرائی کا غلبہ ہے۔ مسند الہند امام اکبر حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی اپنی معرکة الآراء کتاب ?حجة اللہ البالغہ? میں لکھتے ہیں : إن ہذہ المذاہب الأربعة المدونة المحررة قد أجمعت الأمة أو مَنْ یعتد بہ منہا علی جواز تقلیدہا إلی یومنا ہذا وفي ذلک من المصالح ما لا یخفی لاسیما في ہذہ الأیام التي قصرت فیہا الہمم وأشربت النفوس الہوی وأعجب کل ذي رأي برأیہ (حجة اللّٰہ البالغة: ۱/۱۵۳، باب حکایة حال الناس قبل المائة الرابعة وبعدہا. ط مصر)

حضرت شاہ صاحب اپنی دوسری کتاب عقد الجید میں فرماتے ہیں: اعلم أن في الأخذ بہذہ المذاہب الأربعة مصلحة عظیمة وفي الإعراض عنہا کلہا مفسدة کبیرة (عقد الجید، ۳۶، باب تاکید الأخذ بمذاہب الأربعة والتشدید في ترکہا والخروج عنہا. ط لاہور)
عام آدمی جو کتاب و سنت سے ناآشنا ہو یا عالم ہو مگر جمع تطبیق اوراستنباط و استخراج سے ناواقف ہو جس کا اس زمانہ میں فقدان ہے اس کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی تلقی کے لیے امام کو واسطہ بنانا تقلید کہلاتا ہے، یہ ایسا ہی ہے جس طرح ہم دنیوی معاملات میں ماہرین فن کے مشوروں پر عمل کرتے ہیں، بیمار ہوتے ہیں تو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، مکان بنوانا ہوتو انجینئر کی خدمات حاصل کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ، ان ائمہ میں سے کسی ایک کی تقلید چھوڑنے سے آدمی نفسانی خواہشات کا تابع ہوجاتا ہے اور گمراہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی ہے اتخذ الناس روٴساً جہالاً فسئلوا فأفتوا بغیر علم فضلوا وأضلوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے اور ان سے مسائل دریافت کریں گے، وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے اس طرح وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (مشکوٰة: ۱/۳۳)

واللہ تعالیٰ اعلم

مکمل تحریر >>

(۱) میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کسی بھی امام کی تقلید ضروری ہے؟ (۲) کیا بنا تقلید ایمان ادھورا ہے؟ (۳) جب یہ چاروں امام نہیں تھے تو اس وقت کے مسلمان کس امام کی تقلید کیا کرتے تھے؟ (۴) اللہ کے رسول کی پیشین گوئی جب بہتر فرقے کے لیے ہے تو اماموں کے بارے میں بھی اللہ کے رسول نے کچھ اپنی زبان سے کہا ہوگا۔

سوال :
(۱) میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کسی بھی امام کی تقلید ضروری ہے؟
(۲) کیا بنا تقلید ایمان ادھورا ہے؟
(۳) جب یہ چاروں امام نہیں تھے تو اس وقت کے مسلمان کس امام کی تقلید کیا کرتے تھے؟
(۴) اللہ کے رسول کی پیشین گوئی جب بہتر فرقے کے لیے ہے تو اماموں کے بارے میں بھی اللہ کے رسول نے کچھ اپنی زبان سے کہا ہوگا۔

  Answer: 1240  (فتوى:  568/ن = 557/ن)
(۱) جی ہاں! چاروں برحق ائمہ میں سے کسی ایک کی تقلید ضروری ہے اس لیے کہ عوام او رکم پڑھے لکھے لوگ تو بغیر تقلید کے قرآن وحدیث میں سے ہرایک میں تنِ تنہا راہِ مستقیم پر نہیں رہ سکتے ہیں اور جب قرآن و احادیث سے ماخوذ قواعد و ضوابط کی روشنی میں تمام اجتہادی مسائل متفرع کرلیے گئے تو اب اہل علم کو اجتہاد کی گنجائش دیکر امت میں اختلاف و انتشار پیدا کرنا ہے جیسا کہ تیسری و چوتھی صدی میں بہت سے لوگوں نے اجتہاد کیا جس کی وجہ سے امت میں مقلدین کے بہت سے گروہ پیدا ہوگئے اور امت میں بہت زیادہ افتراق پیدا ہوگیا تو چوتھی صدی میں چاروں ائمہ کی تقلید پر اجماعِ امت ہوگیا کہ ان کے علاوہ کی تقلید درست نہیں ہے۔ فإن أھل السنة والجماعة قد افترق بعد القرن الثلثة أو الأربعة علی أربعة المذاہب ولم یبق في فروع المسائل سوی ھذہ المذاہب الأربعة فقد انعقد الإجماع المرکّب علی بطلان قول من یخالف کلھم (تفسیر مظھري: ج۲ ص۶۴)

(۲) ایمان نام ہے التصدیق بجمیع ما جاء بہ النبي صلی اللہ علیہ وسلم کا تقلید کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے مگر بغیر تقلید کے شریعت پر عمل دشوار ہے اور ایسا شخص خطرہ میں رہتا ہے چنانچہ غیرمقلدین کے پیشوا مولانا محمد حسین بٹالوی اشاعت السنة جلد ۱۱ شمارہ ۱۰ کے ص ۲۱۱ میں تحریر فرماتے ہیں: غیر مجتہد مطلق کے لیے مجتہدین سے فرار و انکار کی گنجائش نہیں اور جلد ۱۱ شمارہ ۱۱ کے ص۵۳ میں وضاحت فرماتے ہیں: ?پچیس برس کے تجربہ سے ہم کو یہ بات معلوم ہوئی کہ جو لوگ بے علمی کے ساتھ مجتہد مطلق اور تقلید کے تارک بن جاتے ہیں وہ بالآخر اسلام کو سلام کربیٹھتے ہیں ان میں سے بعض عیسائی ہوجاتے ہیں اور بعض لامذہب جو کسی دین و مذہب کے پابند نہیں رہتے?۔

(۳) اس وقت بھی لوگ معتبر علمائے دین اور ہرعلاقہ والے اپنے یہاں کے مجتہدین کی تقلید کیا کرتے تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں وبعد المأتین ظھرت فیھم التمذھب للمجتھدین بأعیانھم وقل ما کان لا یعتمد علی مذھب مجتھد بعینہ وکان ھذا ھو الواجب في ذلک الزمان (الأنصاف مع ترجمہ کشاف: ص۵۹) اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب -رحمہ اللہ- عقد الجید میں فرماتے ہیں کہ لوگ صحابہ-رضي اللہ عنہم-کے زمانے سے تقلید کرتے آرہے ہیں  لأن الناس لم یزالوا من زمن الصحابة -رضي اللہ عنھم- إلی أن ظھرت المذاھب الأربعة یقلدون من اتفق من العلماء من غیر نکیر من أحد یعتبر إنکارہ ولو کان ذلک باطلاً لأنکرہ (عقد الجید مع سلک مروارید: ۲۹)

(۴) ان ائمہ کے سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی پیشین گوئی نہیں ہے کیونکہ ان کے مسالک کوئی علیحدہ علیحدہ فرقے نہیں ہیں بلکہ یہ چاروں اہل سنت والجماعت کے مسالک ہیں اور اہل سنت والجماعت سوادِ اعظم اور ناجی فرقہ ہے جیسا کہ اس پر بے شمار احادیث مشاہد ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم

مکمل تحریر >>