Thursday, 27 February 2014

وساوس غیرمقلدیت : وسوسه = امام ابوحنيفه رحمه الله ضعيف راوى تهے محدثین نے ان پرجرح کی هے ؟؟

وسوسه = امام ابوحنيفه رحمه الله ضعيف راوى تهے محدثین نے ان پرجرح کی هے ؟؟
جواب = امام ابوحنیفہ رحمہ الله کو ائمہ حدیث نے حُفاظ حدیث میں شمارکیا ہے ،
عالم اسلام کے مستند عالم مشہور ناقد حدیث اور علم الرجال کے مستند ومُعتمد عالم علامہ ذهبی رحمہ الله نے امام ابوحنیفہ رحمہ الله کا ذکراپنی کتاب ( تذکره الحُفَّاظ ) میں کیا ہے ، جیسا کہ اس کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ اس میں حُفاظ حدیث کا تذکره کیا گیا ہے ، اور محدثین کے یہاں ( حافظ ) اس کو کہاجاتا ہے جس کو کم ازکم ایک لاکھ احادیث متن وسند کے ساتھ یاد ہوں اور زیاده کی کوئی حد نہیں ہے ، امام ذهبی رحمہ الله تو امام ابوحنیفہ رحمہ الله کو حُفاظ حدیث میں شمار کریں ، اور ہندوستان میں انگریزی دور میں پیدا شده فرقہ جدید اہل حدیث کہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ الله کو ستره احادیث یاد تهیں ، اور وه ضعيف راوى تهے ، اور علم حدیث سے نابلد تهے ، اب کس کی بات زیاده معتبر ہے ؟
تذکره الحُفَّاظ سے امام ابوحنیفہ رحمہ الله کا ترجمہ درج ذیل ہے
أبو حنيفة الإمام الأعظم فقيه العراق النعمان بن ثابت بن زوطا التيمي مولاهم الكوفي: مولده سنة ثمانين رأى أنس بن مالك غير مرة لما قدم عليهم الكوفة، رواه ابن سعد عن سيف بن جابر أنه سمع أبا حنيفة يقوله. وحدث عن عطاء ونافع وعبد الرحمن بن هرمز الأعرج وعدي بن ثابت وسلمة بن كهيل وأبي جعفر محمد بن علي وقتادة وعمرو بن دينار وأبي إسحاق وخلق كثير. تفقه به زفر بن الهذيل وداود الطائي والقاضي أبو يوسف ومحمد بن الحسن وأسد بن عمرو والحسن بن زياد اللؤلؤي ونوح الجامع وأبو مطيع البلخي وعدة. وكان قد تفقه بحماد بن أبي سليمان وغيره وحدث عنه وكيع ويزيد بن هارون وسعد بن الصلت وأبو عاصم وعبد الرزاق وعبيد الله بن موسى وأبو نعيم وأبو عبد الرحمن المقري وبشر كثير. وكان إماما ورعا عالما عاملا متعبدا كبير الشأن لا يقبل جوائز السلطان بل يتجر ويتكسب.قال ضرار بن صرد: سئل يزيد بن هارون أيما أفقه: الثوري أم أبو حنيفة؟ فقال: أبو حنيفة أفقه وسفيان أحفظ للحديث. وقال ابن المبارك: أبو حنيفة أفقه الناس. وقال الشافعي: الناس في الفقه عيال على أبي حنيفة. وقال يزيد: ما رأيت أحدًا أورع ولا أعقل من أبي حنيفة. وروى أحمد بن محمد بن القاسم بن محرز عن يحيى بن معين قال: لا بأس به لم يكن يتهم ولقد ضربه يزيد بن عمر بن هبيرة على القضاء فأبى أن يكون قاضيا. قال أبو داود : إن أبا حنيفة كان إماما.وروى بشر بن الوليد عن أبي يوسف قال: كنت أمشي مع أبي حنيفة فقال رجل لآخر: هذا أبو حنيفة لا ينام الليل، فقال: والله لا يتحدث الناس عني بما لم أفعل، فكان يحيي الليل صلاة ودعاء وتضرعا. قلت: مناقب هذا الإمام قد أفردتها في جزء. كان موته في رجب سنة خمسين ومائة .أنبأنا ابن قدامة أخبرنا بن طبرزد أنا أبو غالب بن البناء أنا أبو محمد الجوهري أنا أبو بكر القطيعي نا بشر بن موسى أنا أبو عبد الرحمن المقرئ عن أبي حنيفة عن عطاء عن جابر أنه رآه يصلي في قميص خفيف ليس عليه إزار ولا رداء قال: ولا أظنه صلى فيه إلا ليرينا أنه لا بأس بالصلاة في الثوب الواحد
امام ذهبی رحمہ الله کی مذکوره بالا عبارات میں کئ باتیں قابل غور ہیں 
1 = امام ذهبی رحمہ الله عالم اسلام کے مشہور ومعتمد امام وناقد حدیث ہیں ، جس کو علماء اسلام  خاتمة شيوخ الحديث اور خاتمة حفاظ الحديث کے القاب سے یاد کرتے ہیں ، امام ابوحنیفہ رحمہ الله کی سیرت کی ابتداء ((الإمام الأعظم)) کہ کر کرتے ہے ، اور یہ لفظ ((الإمام الأعظم)) فرقہ اہل حدیث کے بعض جہلاء گلے میں کانٹے کی طرح چبتا ہے 
 2 = امام ذهبی رحمہ الله نے امام ابوحنیفہ رحمہ الله کے تابعی ہونے کا اقرار بهی کیا ، ہم کہتے ہیں کہ اگر بالفرض امام ابوحنیفہ رحمہ الله کی فضیلت اور کوئی بهی نہ ہو تو ان کے شرف وفضل کے یہی کافی ہے کہ وه تابعی ہیں ، جبکہ فرقہ اہل حدیث کے بعض جہلاء کو امام صاحب کا یہ شرف بهی پسند نہیں ، اور حسد وجہل کی وجہ سے اس بارے میں کیا کچھ ہانکتے رہتے ہیں 
3 = امام ذهبی رحمہ الله نے یہ بهی فرمایا کہ میں نے امام ابوحنیفہ رحمہ الله کی سیرت میں ایک مستقل کتاب بهی لکهی ہے ، مناقب هذا الإمام قد أفردتها في جزء ، اور درحقیقت امام ابوحنیفہ رحمہ الله کی علمی وعملی کارنامے اتنے وسیع وکثیر ہیں کہ امام ذهبی رحمہ الله نے اپنی کتاب ((سير أعلام النبلاء)) میں امام اعظم کے ترجمہ میں یہ بهی اقرار کیا کہ امام اعظم کی سیرت بیان کرنے کے لیے دو مستقل کتابیں لکهنے کی ضرورت ہے . وسيرته تحتمل أن تفرد في مجلدين رضي الله عنه ورحمه ، اسی طرح امام ذهبی رحمہ الله نے اپنی کتاب ((سير أعلام النبلاء)) میں امام اعظم کے فضائل ومناقب میں بہت کچھ نقل کیا . من شاء فليراجع اليه
وسوسه = امام ابوحنيفه رحمه الله ضعيف راوى تهے محدثین نے ان پرجرح کی ہے ؟؟ 
جواب = دنیائے اسلام کی مستند ائمہ رجال کی صرف دس کتابوں کا نام کروں گا ، جو اس وسوسه کو باطل کرنے کے لیئے اورایک صاحب عقل کی تسلی کے لیے کافی ہیں ، 
1 = امام ذهبی رحمه الله حدیث و رجال کے مسنتد امام ہیں ، اپنی کتاب (( تذکرة الحُفاظ )) میں امام اعظم رحمه الله کے صرف حالات ومناقب وفضائل لکهے ہیں ، جرح ایک بهی نہیں لکهی ، اور موضوع کتاب کے مطابق مختصر مناقب وفضائل لکهنے کے بعد امام ذهبی رحمه الله نے کہا کہ میں نے امام اعظم رحمه الله کے مناقب میں ایک جدا و مستقل کتاب بهی لکهی ہے 
2 = حافظ ابن حجرعسقلانی رحمه الله نے اپنی کتاب (( تهذیبُ التهذیب )) میں جرح نقل نہیں کی ، بلکہ حالات ومناقب لکهنے کے بعد اپنے کلام کو اس دعا پرختم کیا ((مناقب أبي حنيفة كثيرة جدا فرضي الله عنه وأسكنه الفردوس آمين )) امام ابوحنيفه رحمه الله کے مناقب کثیر ہیں ، ان کے بدلے الله تعالی ان سے راضی ہو اور فردوس میں ان کو مقام بخشے آمین
3 = حافظ ابن حجرعسقلانی رحمه الله نے اپنی کتاب (( تقريب التهذيب )) میں بهی کوئ جرح نقل نہیں کی 
4 = رجال ایک بڑے امام حافظ صفی الدین خَزرجی رحمه الله نے اپنی کتاب (( خلاصة تذهيب تهذيب الكمال )) میں صرف مناقب وفضائل لکهے ہیں ، کوئ جرح ذکرنہیں کی ، اور امام اعظم رحمه الله کو ((امام العراق وفقیه الامة)) کے لقب سے یاد کیا ، واضح ہو کہ کتاب (( خلاصة تذهيب تهذيب الكمال )) کے مطالب چارمستند کتابوں کے مطالب ہیں ، خود خلاصة ، اور 
5 = تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال . امام ذهبی رحمه الله
6 = ألكمال في أسماء الرجال . امام عبدالغني المَقدسي رحمه الله
7 = تهذيب الكمال . امام ابوالحجاج المِزِّي رحمه الله
کتاب (( ألكمال )) کے بارے میں حافظ ابن حجرعسقلانی رحمه الله نے اپنی کتاب (( تهذیبُ التهذیب )) کے خطبہ میں لکهتے ہیں كتاب الكمال في أسماء الرجال من أجل المصنفات في معرفة حملة الآثار وضعا وأعظم المؤلفات في بصائر ذوي الألباب وقعا اور خطبہ کے آخرمیں کتاب ( ألكمال ) کے مؤلف بارے میں لکها هو والله لعديم النظير المطلع النحرير
8 = کتاب تهذيب الأسماء واللغات . میں امام نووي رحمه الله سات صفحات امام اعظم رحمه الله کے حالات ومناقب میں لکهے هیں ، جرح کا ایک لفظ بهی نقل نہیں کیا 
9 = کتاب مرآة الجنان وعبرة اليقظان . میں امام أبو محمد عبدالله بن أسعد اليمني المعروف باليافعي‏ رحمه الله امام اعظم رحمه الله کے حالات ومناقب میں کوئ جرح نقل نہیں کی ، حالانکہ امام یافعی نے ( تاریخ بغداد ) کے کئ حوالے دیئے ہیں ، جس سے صاف واضح ہے کہ خطیب بغدادی کی منقولہ جرح امام یافعی کی نظرمیں صحیح وثابت نہیں ہیں
10 = فقيه إبن العماد الحنبلي رحمه الله اپنی کتاب ((شذرات الذهب في أخبار من ذهب)) میں صرف حالات ومناقب ہی لکهے ہیں ، جرح کا ایک لفظ بهی نقل نہیں کیا 
فائده = اصول حدیث کی مستند کتب میں علماء امت نے یہ واضح تصریح کی ہے ، کہ جن ائمہ کی عدالت وثقاہت وجلالت قدر اہل علم اور اہل نقل کے نزدیک ثابت ہے ، ان کے مقابلے میں کوئی جرح مقبول و مسموع نہیں ہے-

2 تبصرے comments:

saotolhaq usmani نے لکھا ہے کہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ماشاء اللہ بہت اچھی کاوش ہے ۔سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی شان اقدس میں غیر المقلدین وہابی نجدی انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ گستاخیاںہانک رہے ہیں خاص طور پر آپکی ثقات و عدالت پر حملے کر ضیعیف ثابت کرنے کئ درپے ہیں ۔لیکن ابھی بھی کماحقہ محنت نہیں کی جارہی۔حضرات علماء اہلسنت دیوبند رحمھم اللہ نے ہر باطل فرقہ کی بیخ کنی کی اسی طرح غیر المقلدین وہابی نجدیوں کے خلاف بھی علمی محاذ پر گرانقدر نقوش چھوڑے ہیں۔اللہ جل شانہ آپکی مساعی کو درجہ قبولیت عطا فرمائے امین ثم امین۔

NoorMohammed Hodekar نے لکھا ہے کہ

جزا ک اللہ محترم ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ آپ کی دعا قبول کرے ۔ آمین

بس مقصد ایک ہی ہے کہ اس سلسلہ میں جو بھی ٓمواد ملے ۔۔اسے یکجا کر وں کہ بوقت ضرورت ڈھونڈنے کی نوبت نہ رہے ۔ ۔

والسلام

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔