Monday, 16 December 2013

غیر مقلدین سے چند سوالات ۔ ۔ ۔



غیر مقلدین سے چند سوالات

سوال1۔ کیا قرآن پاک میں نماز پڑھنے کا طریقہ بالتفصیل موجود ہے؟
(نوٹ) بالتفصیل سے مراد شرائط، ارکان، واجبات، سنن موکدہ، مستحبات، مباحات، مکروہات اور مفسدات ہیں، ان میں ہر ایک کی تعداد، ہر ایک کی تعریف،ہر ایک کے عمد اور سہوا چھوٹ جانے کا حکم صرحة موجود ہونا ہے۔
سوال2۔کیا بخاری شریف میں نماز پڑھنے کا طریقہ بالتفصیل و بالترتیب موجود ہے؟
سوال3۔کیا مسلم شریف میں نماز پڑھنے کا طریقہ بالتفصیل و بالترتیب موجود ہے؟
سوال4۔کیاسنن نسائی میں نماز پڑھنے کا طریقہ بالتفصیل و بالترتیب موجود ہے؟
سوال5۔ کیا جامع ترمذی میں نماز پڑھنے کا طریقہ بالتفصیل و بالترتیب موجود ہے؟
سوال6۔ کیا سنن ابی داؤد میں نماز پڑھنے کا طریقہ بالتفصیل و بالترتیب موجود ہے؟
سوال7۔ کیا سنن ابن ماجہ میں نماز پڑھنے کا طریقہ بالتفصیل و بالترتیب موجود ہے؟
(نوٹ) جب صحاح ستہ میں سے کسی ایک کتاب میں بھی نماز کے مکمل مسائل بالتفصیل وبالترتیب موجود نہیں تو یہ چھ6محدثین نماز کس طرح پڑھا کرتے تھے
سوال8۔ کیا کسی محدث نے نماز کی ایسی جامع کتاب مرتب فرمائی ہے جس میں نماز کا طریقہ مکمل بالتفصیل و بالترتیب ہو، اس میں ہر ہر مسئلہ صحیح، غیر معارض سے پیش فرمایا ہو۔ اور اس کتاب کی صحت پر کوئی آیت یا حدیث صریح دلیل ہو؟
سوال9۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زیر نگرانی کوئی ایسی کتاب مرتب کروائی، جس میں نماز کا مکمل طریقہ بالتفصیل و بالترتیب درج ہو؟ اور وہ کتاب آج تک امت میں متداول ہو؟
سوال10۔ کیا خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم میں سے کسی خلیفہ راشد نے اپنی زیر نگرانی کوئی نماز کی ایسی جامع کتاب مرتب کروائی جس کو آج تک امت میں تلقی بالقبول کا شرف حاصل ہو؟
سوال11۔ اس امت میں سب سے پہلے کس نے نماز کو بالتفصیل و بالترتیب مرتب کروایا، جن کی مرتب نماز امت میں آج تک متداول ہے؟
(نوٹ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت میں فرائض کا حساب ہوگا، اور ان میں اگر کمی ہوگی تو نوافل سے پوری کی جائے گی،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرائض اور سنتوں کا بیان فرمایا ہے۔
(نماز پڑھنے سے پہلے جو باتیں ضروری ہیں، ان کو ائمہ مجتہدین شرائط نماز کہتے ہیں، ائمہ اربعہ کی فقہ دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ امت کا اجماع ہے کہ نماز کی کچھ شرائط ہیں)
سوال12۔ آپ یہ بتائیں کہ نماز کی شرائط قرآن کریم میں کتنی مذکور ہیں؟ اور کیا کیا ہیں؟
سوال13۔ آپ یہ بیان فرمادیں کہ نماز کے ارکان کون کون سے ہیں؟ اور رکن کی تعریف کیا ہے؟
سوال14۔آپ یہ بیان فرمادیں کہ نماز میں واجبات کتنے ہیں؟ نیز واجب کی تعریف بھی بیان فرمائیں؟
سوال15۔ آپ یہ بیان فرمائیں کہ نماز میں کتنی چیزیں سنت موکدہ ہیں؟ اور سنت موکدہ کی تعریف بھی بیان فرمادیں؟
سوال16۔ آپ کے نزدیک نماز میں کتنے کام مستحب ہیں اور مستحب کی تعریف بھی بیان ہو؟ (قرآن، و صریح صریح غیر معارض حدیث سے)
سوال17۔ آپ کے نزدیک نماز میں کتنے کام مباح ہیں،اور مباح کی تعریف بھی بیان فرمائیں؟ (قرآن، و صریح صریح غیر معارض حدیث سے)
سوال18۔ آپ کے نزدیک کتنی چیزوں سے نماز مکروہ ہوتی ہے، اور مکروہ کی تعریف بھی بیان فرمائیں؟ (قرآن، و صریح صریح غیر معارض حدیث سے)
سوال19۔ آپ کے نزدیک نماز میں کتنی چیزوں نماز کو فاسد کردیتی ہیں؟ باطل اور فاسد کی تعریف بھی بیان فرمائیں؟ (قرآن، و صریح صریح غیر معارض حدیث سے)
سوال20۔ آپ کے یہاں فجر کے نماز کی کتنی رکعتیں ہیں؟سنت اور فرض کا لفظ صراحة حدیث میں ہو۔
سوال21۔ آپ کی یہاں ظہر کی کتنی رکعت ہیں؟ فرض ، سنت و نفل کا لفظ صراحة حدیث میں موجود ہو۔
سوال22۔ آپ کی یہاں عصر کی کتنی رکعت ہیں؟ سنت اور فرض کی صراحت حدیث میں ہو۔
سوال23۔ آپ کے یہاں مغرب کی کتنی رکعات ہیں؟ فرض و سنت کی تفصیل صراحة حدیث میں ہو۔
سوال24۔ آپ کے یہاں عشاءکی کتنی رکعت ہیں؟ فرض، سنت و نفل کی تفصیل صراحة حدیث میں موجود ہو۔
سوال25۔ آپ کے یہاں جو مجتہدین، محدثین، اور دیگر مسلمان نماز کی شرائط، ارکان، واجبات، سنن،مکروہات و مفسدات کے قائل ہیں، وہ مسلمان ہیں یا کافر؟
سوال26۔تکبیر تحریمہ فرض ہے یا واجب یا سنت یا مستحب؟ حکم صراحة آیت یا حدیث میں مذکور ہو۔
سوال27۔ آپ کے یہاں تکبیر تحریمہ امام کے لئے بلند آواز سے کہنا سنت ہے اور مقتدی کے لئے آہستہ آواز سے۔ یہ حدیث میں دکھائیں؟
خاکپائے علمائے دیوبند
امین الحق عبداللہ


1 تبصرے comments:

Unknown نے لکھا ہے کہ

Any comments pls ?

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔